عاشق کے گریبان کا پھیلاؤ

وصل اس کو زہِ دامن محشر میں کیا ہے پھیلاؤ ہے عاشق کے گریبان میں کتنا اردو اور فارسی شاعری میں عاشق (بطور عامل یا Actant) کے عملی وظائف نہایت دل چسپ اور غور طلب ہیں۔ ہم چوں کہ ان کی نوعیت سے معاملت کے عادی ہو چکے ہیں، لہذا ہمیں یہ کچھ زیادہ نہیں …

وصل اس کو زہِ دامن محشر میں کیا ہے
پھیلاؤ ہے عاشق کے گریبان میں کتنا

اردو اور فارسی شاعری میں عاشق (بطور عامل یا Actant) کے عملی وظائف نہایت دل چسپ اور غور طلب ہیں۔ ہم چوں کہ ان کی نوعیت سے معاملت کے عادی ہو چکے ہیں، لہذا ہمیں یہ کچھ زیادہ نہیں چونکاتے۔ مثال کے طور پر، عاشق کو بہار میں کس واسطے قید کیا جاتا ہے، گل بوٹے پھوٹتے ہی عاشق صحرا کی راہ کیوں لیتا ہے، وحشت میں اپنا گریبان کس واسطے چاک کرتا ہے وغیرہ۔ ظاہر ہے، ان سوالات کے شعری (Poetic) جواب کسی حد تک فراہم کیے گئے ہیں لیکن وجودیاتی (Ontological) منطق کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ یہ کہنا آسان ہے، پھول دیکھ کر محبوب یاد آتا ہے یا گل کی بُو معشوق کی مہک کا استعارہ ہے، لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ شاعر کا گریبان چاک کرنا، عملی حربے سے بڑھ کر نتیجے یا استنتاج (Conclusion) کے طور پر کیوں کر گروہی طرز کی اہمیت (Categorical Significance) کا حامل ہے۔ دوسرے معنوں میں ہماری تنقید نے اعمال و وظائف کی فلسفیانہ کھوج کم کم لگائی ہے۔ گریبان کو چاک کیوں کیا جاتا ہے، کف، گھیر یا کسی اور حصے کو کیوں نہیں؟ یہ سوال اہم ہیں۔ ظاہر ہے، ان سب باتوں کو بے ترتیب اور من چاہی (Arbitrary) رسمیات کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ اس طور کی شاعرانہ و ناقدانہ منطق کلاسیکی ادب کی تفہیم کو نیا زاویہ عطا کر سکتی ہے۔

کوئی بھی رسمیاتی وظیفہ یا حربہ منطقی کنہ کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتا۔ گریبان کو ہمارے مذہبی و صوفیانہ تجربے اور احوال میں بہت اہمیت رہی ہے۔ مثال کے طور پر، ایرانی ثقافت سے مڈبھیڑ کے بعد، مذہبی دائرے میں کئی ایسی رسمیں داخل ہوئیں، جن کے مطابق عجز و بے کسی کا اظہار گریبان پھاڑ کر کیا جاتا تھا۔ اس طرزِ خاص کو اپنا کر، نت نئی باریکیاں پیدا ہوئیں۔ ایسی دعاؤں کو قبولیت کے قریں سمجھا گیا، جن میں سائل آسمان تلے، کھلے گریبان کے ساتھ، چپکے چپکے گریہ و فریاد کرتا ہے۔ واضح رہے، اس وقت ان دعاؤں کی شرعی حیثیت سے نہیں، ثقافتی اہمیت سے بحث درکار ہے۔

یہ بھی سوچنے کی بات ہے، عاشق کا گریبان، چاہے جتنا بھی چاک ہو جائے، دریدگی کی خواہش و گنجائش (Capacity) سے محروم نہیں ہوتا۔ گویا گریبان ایک طرح کی نا فنا پذیری یا Infinity کا کنایہ ہے۔ یہ دل چسپ اور بدیع بات ہے۔ مزید لطف اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب یہ معاملہ بازی و دنیا داری بڑھتے بڑھتے مابعد الطبیعیاتی سروکار اختیار کر لیتی ہے۔ عاشق کے گریبان کی وسعت و گنجائش عام معنوں میں حسابی شے معلوم ہوتی ہے، جسے دیکھا ناپا جا سکتا ہے یا جس کی حد معین ہوتی ہے لیکن اس میں کائناتی کنایوں کا عمل دخل، مضمون آفرینی کو ایک اور سطح کی بلندی عطا کرتا ہے۔ غالب کا معروف شعر بھی، جس میں کہنے کو گریبان چاکی کی تخفیف (Reduction) کی گئی ہے (حیف اس چارہ گری کہتے کی قسمت غالب)، اصل میں گریبان کی تقسیمیت (Divisibility) کے فلسفے کو سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف گریبان تقسیم ہو رہا ہے، دوسری طرف تقسیم ہو کر بھی معدوم (Extinct) ہونے سے عاری ہے۔

اس بحث کے بعد آئیے، شعرِ مذکورہ کی طرف۔ مصحفی کے دیوان (ہفتم) سے اس شعر کا نکلنا مزید معنی خیز ہے۔ انھیں عام طور پر معاملات کا شاعر سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً ٹھیک بات ہے، لیکن معاملات میں فلسفیانہ پہلوؤں کو شامل کر لینے میں حرج نہیں۔ غالب نے میر کے شعر کو قل اللہ کا جواب دینے سے تعبیر کیا تھا۔ معلوم نہیں، غالب کی نظر سے مصحفی کا شعر گزرا یا نہیں، اغلب ہے، نہیں گزرا۔ مصحفی کا دیوان ہفتم آخری دور کی (1815ء کے بعد کی) یادگار ہے۔ ظاہر ہے، ان دواوین کو دن کا اجالا بہت بعد میں دیکھنا نصیب ہوا۔ خود بیسویں صدی میں مصحفی کے دیوان آہستہ آہستہ اور بہت بعد میں یک جا ہوئے اور سامنے آئے۔ غالب کے بارے میں یہ بھی معلوم ہے، وہ کتابیں خود سے نہیں خریدتے تھے اور ان کے مطالعہ کی کتب بھی زیادہ تر فارسی ہوتی تھیں۔ اتنا یقین ہے، غالب اس شعر کو پڑھتے تو ان کی رائے بالکل مختلف ہوتی۔ ہمارے ہاں حالت یہ ہے، ظفر اقبال جیسا اہم شاعر بھی مصحفی کو دو شعروں کا شاعر کہتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی رائے مصحفی کے دیگر متخصصین کی بھی ہے۔ یہ رائے غلط ہونے کے علاوہ گمراہ کن بھی ہے۔ مصحفی کے نو دواوین کا مطالعہ کرنے والا کوئی شخص، ایسا جملہ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مصحفی انتخاب کے شاعر ہیں، کلیات کے نہیں۔

شعرِ مذکورہ کے معنی ایسے نہیں جن سے سرسری گزرا جائے۔ حشر کے میدان کو عاشق کے گریبان کا پھیلاؤ عطا کرنا، یوم النشور کی وسعت پذیری (Extension) سے زیادہ عاشق کے گریبان کی بے کرانی و زود سمائی کا استعارہ ہے۔ ظاہر ہے، اگر عاشق کے دل میں محبوب سما سکتا ہے تو کائنات کا ہر بڑا مظہر (خود کائنات بھی) اس سے چھوٹا ہے۔ عشق کی عظمت کا اس سے بڑھ کر کیا اظہار ہوسکتا ہے کہ محشر کے دن جیسا کٹھن اور سخت روز بھی عشق کے معاملات سے خالی نہیں۔ احادیث میں ملتا ہے، یوم حساب خدا کا جلال اپنے عروج پر ہو گا۔ حواس باختہ انسان، یکے بعد دیگرے انبیاء کے پاس جائیں گے اور حساب شروع کرنے کے سائل ہوں گے، کسی نبی کو سوال کی جرات نہ ہو گی (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ)۔ رسولِ آخر الزماں، خدا کے حضور گڑگڑائیں گے، دعا مستجاب ہو گی اور حساب کا عمل شروع ہو گا۔ میر کو چھوڑ کر عشق کی عظمت و جہاں گیری کا ایسا اظہار اردو میں کم کم ہوا ہے۔ مصحفی کے شعر کی خاص بات یہ بھی ہے کہ مضمون کو بہت بنا کر اور پیچیدہ انداز میں نہیں کہا گیا۔

یہ شعر اس مطالعے کا آغاز بھی ہو سکتا ہے، کہ محبوب کی مختلف صفات کو قیامت کے ساتھ
کیوں کر جوڑا جاتا ہے۔

زہ کسی بھی شے کے کنارے کو کہتے ہیں، خصوصاً جب اسے بل دے کر، کنارے کے سوراخ میں سے نکال لیا جائے۔ خواتین کڑھائی اور چکن کاڑھنے کے دوران جھالر وغیرہ کو بل دے کر جو ٹانکا لگاتی ہیں، اسے بھی اصطلاح میں زہ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے، مصحفی نے اس لفظ کو گریبان اور دامن کے ضلع کے طور پر استعمال کیا ہے۔

دوسرے مصرعے کا لفظ ”کتنا“، واضح طور پر استعجابیہ و استفہامیہ ہے۔ وصل کرنا بھی سامنے کی ترکیب نہیں۔ اردو لغت تاریخی اصولوں پر، کا دامن بھی مثال سے خالی ہے۔ رومی نے وصل کردن کو روزمرہ کی سطح پر جس طور سے برتا ہے، میرے ذہن میں اس کی دوسری مثال موجود نہیں:

وصل کنی درخت را حالت او بدل شود
چون نشود مہا بدل جان و دل از وصال تو

(اگر کسی درخت کو پیوند کیا جائے [کسی دوسرے درخت کی شاخ کے ساتھ جوڑ دیا جائے] تو اس کی حالت بدل جاتی ہے، لیکن میری جان اور دل تم سے وصال کے بغیر کبھی نہیں بدل سکتے۔)

مصحفی کے شعر میں، وصل کِیا، کا فاعل،جمع غائب کا صیغہ ہے۔ یہ صیغہ فارسی اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی کارکنان قضا و قدر کے لیے استعمال ہوتا ہے [They]۔ وصل کرنا سے بھی کم از کم دو باتیں مراد ہیں، اول کہ عاشق کی حیثیت اور عشق کے مرتبے کو قیامت کے دن بھی پس پشت نہیں ڈالا جائے گا:

عشق سے جا نہیں کوئی خالی
دل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق
(میر)

دوم، عاشق کے گریبان کے بغیر، قیامت جیسے آفاقی دن میں بھی وسعت اور گہرائی پیدا ہونا مشکل ہے، غالب :

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

پھیلاؤ لفظ بھی قابل داد یے، اس جنس کا کوئی دوسرا لفظ، شاید قن معنی کو کفایت نہ کر پاتا۔ مثلاً وسیع یا عریض وغیرہ، پھیلاؤ میں ایک طرح کا معمول اور روزمرہ کا وفور ہونے کے ساتھ ایسی کیفیت پنہاں ہے، جسے آسانی کے ساتھ لفظ کے جال میں نہیں لایا جا سکتا۔

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button